Bazm e Mohabbt By Hira Gouz Novels


 ناول: بزم محبت اور ہم

ڈاکٹر حرا غوث (فیصل آباد)

قسط نمبردو


وہ ایک دم حواسوں میں لوٹی۔ چابی نکالتی وہ پھیکی مسکراہٹ لیے گاڑی سے باہر نکلی جہاں ازل اسے خوفناک تاثرات لیے گھور رہی تھی۔

ازل اسکی یونیورسٹی کی دوست تھی۔ نٹ کھٹ اور بہت بونے والی۔ دوستی کی شروعات بھی ازل کی طرف سے ہوئی تھی جس پر اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ ہاں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔

 اسکے چہرے کو دیکھ کر ازل غصے کو بھلا کر اسے بغور دیکھنے لگی۔

سب ٹھیک ہے؟ طبیعت خراب ہے؟ ازل نے سوال کیا

اسلام علیکم! 

ہاں ہاں وعلیکم السلام۔

میں نے دل میں سلام لیا تھا۔

ازل کا جواب سن کر وہ مسکرائی۔

کیا ہوا ہے کچھ بول کیوں نہیں رہی؟ ازل کو پریشانی ہوئی۔ 

کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہ ہولے سے جواب دیتی کیمپس کی طرف بڑھنے لگی۔ ازل بھی اسکے ساتھ چلنے لگی۔

سیچویشن تو کچھ اور بتا رہی ہے؟ رستے میں کوئی مسئلہ ہوا؟ اسنے کریدنے کی کوشش کی۔

ہارون۔۔۔۔ اس نے نفی میں سر ہلا کر ہولے سے جواب دیا۔

ہمممم۔۔۔۔ لڑائی ہو گئی اس سے؟ ازل نے معاملہ سمجھنے کی کوشش کی۔

صلح کب تھی جو لڑائی ہو گی۔ وہ چاہتا ہے میں اس سے ملوں۔

کیا؟ ازل تقریباً چیخنے والے انداز میں بولی۔ اردگرد سے گزرتے لوگوں نے ایک دم رک کر انہیں دیکھا 

سوری۔ روشانے نے آواز نکالے بغیر سب سے معذرت کی۔ ساتھ ہی ایک چٹکی ازل کو کاٹی۔

آہستہ بولو۔ پوری دنیا کو سنانا ہے کیا؟ اس نے دانت کچکچائے۔

ملنے کو بولا اسنے۔ بڑا بے شرم ہے۔ کیا تم ملو گی؟ ازل نے سوال کیا۔

میں پاگل ہوں؟ روشانے نے سوال پر سوال کیا۔

وہی تو۔ لیکن اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ منع کر دو۔ ازل نے اپنے تئیں مشکل آسان کی۔

کر دیا تھا۔ 

پھر۔ 

اس نے باتیں سنانی شروع کر دی۔ اور فورس کر رہا ہے کہ میں باہر نہ ملی تو گھر آجائے گا۔ اور گھر آ گیا تو تم جانتی ہو بابا اماں اور میں خود ۔۔ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ وہ رو دینے کو تھی 

کیا اس نے سچ میں ایسا کہا؟ ازل بے یقین تھی۔

ہممم۔۔۔ تم پاگل ہو جو گھر کا پتہ بھی دے دیا۔ ازل کو اس کی کم عقلی پر افسوس ہوا 

اس نے کہا تھا وہ محبت کرتا ہے مجھ سے اور شادی کرنا چاہتا ہے۔ تو یہ باتیں چھپاتی میں اچھی لگتی؟

روشانے نے وضاحت کی۔

ہو گئی محبت؟ کر لی اسنے شادی؟ ازل کو غصہ آنے لگا۔

مجھے علم نہیں تھا وہ اتنا بدل جائے گا۔ اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔

آہ سچ کہتے ہیں سیانے۔ محبت اندھی ہوتی ہے۔ 

اس سب کی ذمہ دار میں ہوں۔ ازل شرمندہ ہوئی 

تمہارا کوئی قصور نہیں ہے مجھے اپنا گناہ قبول کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے۔ میں ایک قدم آگے نہ بڑھتی تو ان حالات کی نوبت نہ آتی۔ وہ اداس ہوئی۔

محبت کرنا جرم ہے نہ گناہ۔ یہ صرف ایک غلطی ہے جس کے بغیر صحیح اور غلط انسان کی پہچان نہیں کی جا سکتی۔ یہ صرف ایک سبق ہے آئندہ زندگی کے لیے۔ 

مگر میرے لیے یہ آزمائش ہے شاید۔

اللّٰہ انسان پر اسکی برداشت سے زیادہ کوئی بوجھ نہیں ڈالتا۔

ہمممم۔۔۔۔۔۔

ہر مشکل کا حل موجود ہوتا ہے۔ مگر یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے تلاش کرنے میں کتنا وقت لگاتے ہیں 

وہ دونوں باتیں کرتی پروفیسر انیلہ کے آفس پہنچ چکی تھیں۔

ریسرچ کا کچھ کام کر کے وہ دو بجے کے قریب گھر آ گئی۔ اس دوران ہارون نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی نہ اس نے۔

آرام کی غرض سے کچھ دیر سونے کا ارادہ کرتی لیٹ گئی۔ کچھ ہی لمحوں بعد اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔ سائڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر آنکھوں سے بازو ہٹائے بغیر اس نے فون کان کے ساتھ لگایا۔

اسلام علیکم

باہر آو۔ سلام کا جواب دیے بغیر وہ بے مروتی سے بولا۔

اس کی نیند ایک دم غائب ہوئی۔

ک۔۔کہاں باہر۔۔۔۔ وہ ہکلائی۔

اپنے گھر کے باہر میری جان اور کہاں۔ لہجے کو مصنوعی میٹھا بناتے وہ اسے انتہائی خبیث لگا۔

ہاں خبیث

اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ وہ ایک ہی جست میں ننگے پاؤں کھڑکی کی جانب لپکی۔

گھر کے عین سامنے سڑک کی دوسری طرف اپنی بائیک کے ساتھ ٹیک لگائے وہ کھڑکی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکلنے لگی۔

میں نہیں آ سکتی۔ وہ رو دینے کو تھی۔

آنا تو پڑے گا میری جان۔

اسے ایک دم وہ شیطان لگا۔ کم از کم اسے ایسا ہی لگا۔

آ ۔۔آپ ابھی جائیں۔

می۔۔۔۔میں کل ملتی ہوں آپ سے۔

ابا کے آنے کا وقت تھا۔ وہ اسے جلد از جلد وہاں سے بھیجنا چاہ رہی تھی۔

ہمممم۔۔۔۔ وہ مسرور ہوا۔

پرامس۔۔۔

جی۔۔ کہ کر وہ کال کاٹ چکی تھی۔ کھڑکی کے پردے سامنے کرتی وہ بیڈ پر آ بیٹھی۔ ماتھے پر آئی پسینے کی ننھی بوندوں کو صاف کرتے اسے آدھا گھنٹہ سانس بحال کرنے میں لگا۔

یا اللَّه کس عذاب میں پھس گئی ہوں میں۔ مجھے اس سے نکال دے میرے مالک۔ ظہر کی نماز پڑھتے وہ زاروقطار رونے لگی ۔

اسکا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔ ارسلان صاحب کا اپنا بزنس تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی۔ اسکی خواہشات کو ضرورت سمجھا جاتا۔ لاڈ پیار ایک طرف مگر ارسلان صاحب لڑکے لڑکی کی دوستی کے خلاف تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ دقیانوسی تھے۔ وہ زمانہ شناس آدمی تھے۔ اور دنیا کے حالات و واقعات سے بخوبی واقف بھی۔ 

          __________________

نیم اندھیرے میں گھڑی کی ٹک ٹک بخوبی سنائی دے رہی تھی۔ گرمی اور حبس اس کا سانس بند کر رہی تھی۔ چہرے اور گردن پر آئے پسینے کو صاف کرتے اس نے مندھی مندھی آنکھوں سے اردگرد دیکھنے کی کوشش کی۔ باہر کچھ کھٹکنے کی آواز پر اس نے دروازے کی طرف سایہ بڑھتا محسوس کیا۔ بھرپور کوشش کے بعد بھی وہ بیڈ سے اترنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ شاید خوف میں ہم سب ایسے ہو جاتے ہیں۔ بہت جلدی کی کوشش میں بلکل ناکارہ۔ وہ سایہ دروازہ کھول کر اسکے بیڈ کی جانب بڑھنے لگا آہستہ آہستہ۔ خوف سے چیخ اسکے حلق میں دب کر رہ گئی۔ وہ کوئی آدمی تھا جس نے ہاتھ میں لوہے کا لیمپ سٹینڈ پکڑا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے وہ سٹینڈ اسکے سر پر دے مارا۔ نیم اندھیرے میں بھی اسے خون کے چھینٹے اڑتے نظر آئے۔ درد کی سخت لہر نے اسکی روح کو ہلا کر رکھ دیا۔ سر پر ہاتھ رکھتے اس نے نیم بے ہوشی میں اس سخص کو روشنی میں غائب ہوتے دیکھا۔

اسفند ۔۔۔۔ اسفند

کوئی اسے دور سے بلاتا قریب آ رہا تھا۔ 

اسفند

ایک جھٹکے سے اسکی آنکھ کھلی۔ علی اس پر جھکا پریشان نظروں سے اسے ہلا رہا تھا۔

پسینے سے شرابور ، آنکھوں میں خوف لیے یک ٹک علی کو گھورنے لگا۔ پھر ہاتھ بڑھا کر سر کو چیک کیا۔ اسی اثنا میں علی نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے پانی کا گلاس انڈیل کر اسے پکڑایا۔ 

اس نے غٹاغٹ ایک ہی سانس میں پانی کا گلاس ختم کیا۔

سب ٹھیک ہے؟ 

سب ٹھیک ہے۔ اس نے علی سے زیادہ خود کو تسلی دی اور بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ 

وہ لندن کے پوش ایریا میں موجود مکمل فرنشڈ اپارٹمنٹ تھا مگر اس وقت اسکی حالت بوائز ہاسٹل سے بھی زیادہ ابتر دکھائی دے رہی تھی۔ جابجا سگریٹ کے ٹکڑے اور راکھ موجود تھی۔ کپڑے کچھ بیڈ پر اور کچھ صوفے پر بکھرے پڑے تھے۔ الماری کا پٹ آدھا کھلا تھا۔ 

تیس منٹ بعد وہ ٹھنڈے پانی سے شاور لے کر باہر نکلا تو علی کمرے کو سمیٹ چکا تھا۔

تمہیں شادی کر لینی چاہیے اب... 

علی نے جلتے بھنتے اسے مشورہ دیا۔

کیوں؟ 

اسکی کیوں کی دوسری وجہ تو مجھے معلوم نہیں مگر پہلی یہ ہے کہ مجھے روز روز یہ پھیلاوا سمیٹنا نہیں پڑے گا۔ 

وہ فرش پر بکھری سگریٹ کی راکھ کو صاف کرتے خالص عورتانہ انداز میں بولا

شادی کا پتا نہیں مگر تم اس وقت ایسے بولتے مجھے اپنی بیوی ہی لگ رہے ہو۔ وہ شرارت سے آنکھ دباتے بولا۔

اب تم شرما مت جانا۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا

علی خونخوار نظروں سے گھورتا کمرے سے واک آؤٹ کر گیا۔ پیچھے سے اسفند کا جاندار قہقہہ سن کر وہ مسکرا دیا۔

علی اسکا پانچ سالہ پرانا دوست تھا۔ بہت سلجھا ہوا شریف اور ڈرپوک۔ وہ اسکا دوست بھی تھا اور بھائی بھی۔ وقت پڑنے پر وہ اسکی ماں بھی بن جاتا تھا۔ ایسا اسفند کو لگتا تھا۔

وہ پانچ سال پہلے یونیورسٹی کی لائبریری میں ملے تھے۔ امتحان سر پر تھے۔ سب سٹوڈنٹس پڑھائی میں مصروف نظر آتے۔ لائبریری میں معمول سے زیادہ رش پایا جاتا۔ اسے لائبریری پسند تھی امتحان کے دنوں کے علاوہ۔ شور سے اسکا دماغ کھولنے لگتا۔

پیپر سے عین ایک دن پہلے کسی نے اسکی کتاب اچک لی۔ سکولر شپ پر آنے والے سٹوڈنٹس کوئی پارٹ ٹائم جاب کر کے اپنے expenses پورے کرتے۔ ایسے ہی کسی ایک سٹوڈنٹ نے اپنے بجٹ کو کنٹرول کرنے کے چکر میں وہ کتاب چوری کر لی۔ آہ پیسوں کی خاطر گناہ۔ یہی تو چلتا ہے آج کل۔ 

خیر اکاونٹنگ کی کتاب لائبریری سے ایشو کروانے کے لیے وہ ایک بک ریک کے سامنے کھڑا کتابیں دیکھ رہا تھا۔ اسکے عین پیچھے سے کسی مسئلے پر دبی دبی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔

وہ ہمیشہ سے تنہائی پسند تھا۔ مگر ایک لڑکے کی آواز سن کر وہ معاملے کی نوعیت کو سمجھنے پر مجبور ہو گیا۔

"مگر بھائی یہاں کسی کی جگہ فکس نہیں ہے"۔

 وہ لڑکا پریشان نظروں سے مقابل کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ہم یہاں بیٹھتے ہیں اور یہاں ہی بیٹھیں گے۔ کہیں اور جگہ دیکھ لو۔

 تین چار لڑکے اسے وہاں سے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

بھلا یہ کوئی بات ہے بحث والی۔ وہ سر جھٹک کر دوبارہ سے کتاب کی طرف متوجہ ہوا۔

ساری لائبریری بھری ہوئی ہے۔ آپ لوگ کہیں اور بیٹھ جائیں۔ اس لڑکے نے یہ کہہ کر کتاب پر سر جھکا لیا۔

یہ ایسے نہیں مانے گا۔ 

ان میں سے ایک آگے بڑھا اور اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور گھسیٹ کر سائیڈ پر کر دیا۔وہ بیچارا اپنا کتابیں سمیٹ کر جانے کی تیاری کرنے لگا۔

بات سنو۔ اس نے بے اختیار اس لڑکے کو بلایا۔ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔

بیٹھو یہاں۔ اس نے سر سے اسی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

جی؟ وہ ایک دم کنفیوز ہو کر کبھی اسے دیکھتا اور کبھی ان لڑکوں کو جو خود بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے تھے۔

ہچکچاتے ہو لڑکا دوبارہ وہاں بیٹھ گیا۔

اب اٹھاؤ اسے۔ ان لڑکوں کی طرف گھومتے خاصے سیریس لہجے میں وہ مخاطب ہوا۔

یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے۔ ہم sort out کر لیں گے۔ ان میں سے ایک نے جواب دیا۔

یہ تم لوگوں کے آپس کا نہیں اس لائبریری اور یہاں کے رولز کا معاملہ ہے۔ اس نے آبرو اٹھاتے جتاتے لہجے میں جواب دیا۔

بحث کے دوران اس نے لائبریرین کو اپنی جگہ سے اٹھتے دیکھا۔

تم ہو کون؟ ایک لڑکا آگے بڑھا۔

اسنے خاموشی سے اسکے بازو کو پکڑا اور الٹا کر کے اسکی کمر کے ساتھ لگا دیا۔

اس لڑکے نے کتاب پکڑ کر اسکے سر پر مارنے کے لیے اوپر اٹھائی مگر آج اسکی قسمت خراب تھی شاید۔ 

یہ حرکت لائبریرین بخوبی دیکھ چکی تھی۔ وہ ان چاروں لڑکوں سے کارڈ لے کر انہیں لائبریری سے باہر نکال چکی تھی۔

کتاب اشو کروا کے وہ لائبریری سے نکلا تو پیچھے سے اسی لڑکے نے آواز دی۔ 

السلام علیکم بھائی۔ 

میں آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ بہت دیر سے وہ لوگ مجھے تنگ کرتے آ رہے تھے۔

وعلیکم السلام ۔

کوئی بات نہیں ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔

کندھے پر لٹکتے بیگ کو سیدھا کرتا ایک دفعہ پھر سے پیچھے لپکا ۔

میرا نام علی ہے۔ میں بھی mba کر رہا ہوں۔ اسفند کے ہاتھ میں موٹی کتاب سے وہ اسکے ڈپارٹمنٹ کا اندازہ لگا چکا تھا۔

جان کر خوشی ہوئی۔ اب وہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے

اس دن کے بعد سے علی ہمیشہ اسے گیٹ پر ہی مل جاتا۔ وہ ہمیشہ اسے انتظار کرتا پایا جاتا جیسے پہلے سمسٹر میں نبے نبیاں ایک دوسرے کا کرتے ہیں۔ کبھی کیفے پر ہاتھ ہلا کر اسے متوجہ کر رہا ہوتا۔ کبھی اچانک سے اسے اپنے ساتھ چلتا نظر آتا ۔

وہ بہت بولنے والا مگر نیک دل انسان تھا۔ اس کے ہوں ہاں پر بھی وہ گھنٹوں خود ہی باتیں کرتا رہتا۔

وہ بھی سکولر شپ پر پڑھنے لندن آیا تھا۔ 

وہ دوست کم اور محبوبہ زیادہ لگتا۔ ہاں اسے ایسا ہی لگتا۔ 

ناشتہ کیا ہے آپ نے؟ ان کی ملاقات کے کچھ مہینے بعد سے یہ سب پوچھنا علی کا معمول بن گیا تھا۔ 

پہلی دفعہ پوچھنے پر وہ خاصہ حیران ہوا۔ شاید اس کی زندگی میں یہ بات اسے کوئی پہلی دفعہ پوچھ رہا تھا۔ 

آپ؟ اس نے ابرو اٹھاتے علی کو دیکھا جو اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا اور پھر ہاں میں سر ہلانے لگا۔ 

خدا کا واسطہ ہے یار۔ یہ لڑکیوں والے چونچلے میرے ساتھ مت کیا کرو۔ تم مجھے تم بھی کہہ سکتے ہو۔ اسے برا لگا۔ 

آپ تو میں عزت کے ساتھ کہتا ہوں. وہ معصومیت سے بولتا اسے مزید حیران کر گیا۔ 

تم اپنا بیگ پیک کرو اور گھر کا رستہ لو۔ ایسے زنانہ مردوں کا یہاں رہنا مشکل ہے۔ 

چھوڑیں اسفند بھائی۔ وہ ایک راز کی بات بتانا چاہتا ہوں۔ 

بولو۔ نا چاہتے بھی وہ اسے جواب دے دیتا

تانیہ آپ سے محبت کرتی ہے۔ اسے شاک لگا۔ 

کون تانیہ؟ 

ڈارک براؤن بالوں میں جس نے گولڈن رنگ کروایا ہے۔ 

دیکھنے میں تو بڑے سیدھے لگتے ہو۔ 

علی ایک دم بلش ہوا۔ 

توبہ استغفرُللہ ۔ وہ اٹھ گیا

بس وہاں سے علی نے اس کی محبوبہ بننے کی ٹھان لی۔ 

کچھ کھایا؟ 

ناشتہ کیا؟

لنچ کب کرو گے؟ 

ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔ 

اسفند بھائی۔ ڈنر آپ میرے ساتھ کرئیے گا۔ گرم چپاتی گھر کی بنا کر دوں گا۔ 

وہ کبھی چڑ جاتا اور کبھی ہنس دیتا۔ 

ان کی دوستی کو پانچ سال ہو گئے تھے۔پچھلے ایک سال سے وہ ایک فرم میں کام کر رہے تھے۔ کچھ بدل رہا تھا اور بہت کچھ ویسا ہی تھا۔ 

اسکے برے خواب، ایک دم سے آ جانے والا غصہ اور اپنوں سے دور رہنے کا عہد آج بھی ویسا ہی تھا۔ علی کی اپنائیت سے اس کی گھنٹوں خاموش رہنے والی عادت بڑی حد تک ختم ہو گئی تھی۔ 

وہ تیار ہو کر نکل رہا تھا جب اسے کال آنے لگی۔ یہ کال اسے ہمیشہ مخصوص وقت پر آتی تھی۔ چھے بجے۔ مگر آج جلدی کیوں آ رہی تھی۔ 

اس نے بے بسی سے فون کو اٹھایا اور دیر تک آنے والی کال کو دیکھتا رہا۔ نم آنکھوں سے گلے میں پہنا وہ لاکٹ نکالا اور غور سے دیکھنے لگا۔ موبائل کو بیڈ پر اچھال کر وہ باہر نکل گیا۔ 

      ---------------------------

اس نے ہڑ بڑا کر آنکھ کھولی اور پھر بھاگ کر کھڑکی کی طرف لپکی۔ وہاں کچھ نہ دیکھ کر ایک دم پرسکون ہوئی۔

کون کہتا ہے محبت سکون دیتی ہے۔ 

بالوں کو جوڑے میں لپیٹ کر کریم نکال کر اپنی آنکھوں کے گرد حلقوں پر لگانے لگی۔ اماں کو کہیں شک نہ پڑ جائے۔ 

شمیم جب بھی زہرہ بیگم کو محلے کے قصے سناتی کہ فلاں کی لڑکی بھاگ گئی ۔ فلاں نے لڑکے کی خاطر خودکشی کر لی وغیرہ وغیرہ وہ ہر دفعہ عہد کرتی کہ کبھی ایسا کام نہیں کرے گی جس سے اسے ماں باپ سے کچھ چھپانا پڑے۔ وہ اپنا ماضی ہمیشہ صاف رکھے گی۔ 

لیکن نجانے کب ہارون اس کی زندگی میں آ گیا۔ فیس بک پر اس کی ریکیوسٹ اور پھر تعریفوں کا انبار۔ ازل کے کہنے پر وہ اسے جواب دے بیٹھی بس اس دن سے اسکی بربادی شروع ہو گئی۔ 

چہرے کو نارمل بنا کر وہ نیچے آئی۔ بابا اور اماں خوش دکھائی دے رہے تھے۔ 

خیریت؟ بہت چہکا جا رہا ہے؟ اس نے مسکراتے ہوئے معاملے کی نوعیت کے بارے پوچھا۔ 

محب چچا ہیں نا ان کی پوتی کی شادی ہے۔

 اگلے ہفتے۔ اماں نے وضاحت کی۔

تو آپ کیوں اتنا خوش ہو رہی ہیں۔ 

بن ماں باپ کی بچی تھی گھر میں ہی رشتہ ہو گیا۔ نجانے پرائے لوگ کیسے ملتے۔ اچھا ہے اب آنکھوں کے سامنے رہے گی۔ 

بیٹا آپ کی ریسرچ کہاں تک پہنچی ہے۔ انہوں نے اگلے ہفتے بلایا ہے تو جانا پڑے گا۔

مگر اتنی جلدی میں وائنڈ اپ نہیں کر سکتی۔ آپ تو جانتے ہیں میرا پہلا تجربہ ہے۔ کافی مشکل ہو رہی ہے۔ وہ پریشان ہوئی۔ 

ہممم ۔۔ ابا سوچنے لگے۔

وصی بھائی کا بیٹا ہے نا زبیر۔ وہ بھی ڈاکٹر بن رہا تھا۔ اس سے مدد لے لینا۔ اماں کو یاد آیا۔ 

نہیں میں خود ہی کر لوں گی۔ وہ جھٹ سے بولی۔

اس میں حرج کیا ہے بیٹا۔ ارسلان صاحب نے اماں کی حمایت کی۔ 

خاندان کے کسی فرد سے مدد لوں اور وہ بھی میں۔ ہنہنہ ۔ یہ اسکی انا کے خلاف تھا۔ ہاں ٹھیک ہے وہ دور کے رشتے دار سہی مگر ہیں تو رشتے دار ہی۔ میں کوئی اور رستہ نکال لوں گی۔ وہ سوچتے ہوئے کھانا کھانے لگی۔

اچھا شمس بتا رہا تھا ہمارے گھر کے سامنے کوئی لڑکا کھڑا تھا۔ ارسلان صاحب نے کھنکار کر سوال کیا۔

اس کے پیروں تلے سے ایک دم زمین سرکی۔ اس نے ہونق بن کر دونوں کو 

کھا۔( باقی آئندہ ماہ ان شاء اللّٰہ)

About Us

This is a beautifully written by a very talented writer Hira  Gouz  
When you read this novel you Can enjoy a lot feel happy because this novels can relax your mind.
Her versatile writing Style Can touch your Heart. And you Definitely Read All the Novels of this Amazing writer.
This writer has Wrotes many novels.He/she Wrotes novels in different categories:
Forced marriage based, feudal based, revenge based ,second marriage base, childhood nikaah based, army based, gangster based ,haveli type Novels and Many Other's .
Qalmi Duniya Start the Journey for New writers we Promoting Theirs Outstanding Work. If you are a fresher then you don't need to be a worry about Any Thing,we are here for you. QALMI Duniya can save your work promote your work,tell the Readers about the very hardworking and talented writers.
Qalmi Duniya is a platform where you can find every type of novels with reviewes.
You can find here digest novels as well as 
We are providing you social media writers novels also.
All novels are available here in pdf Form download all the novels on one click.Simply download Pdf with MediaFire link and enjoy the reading 
We are also providing you direct Link Or Google Chrome link this is safe for your browser.
Starting This Platform for new writers,Who want to publish their work.
 Qalmi Duniya publish this novel and if you want to publish your Work then messages or EMAIL us we are also publishing your work within a InshaAllah.
 

Comments

Popular posts from this blog

Zindgi kathn hai by Maryem Altaf

Yeh ghazi yeh Tery pur israar bandy by bisma ijaz

Ishq e Mann by Zahra Jutt continue